جامع الترمذي - بحاشية السهارنفوري والعرف الشذي - ط ألطاف 01-02-غيرملون

ابو عيسى محمد الترمذي

کتاب کا متن

تصویری کتاب

و کلمات کا سقوط کتاب سے استفادے میں دشواری کا سبب ہے، چنانچہ ہماری خواہش تھی کہ جامع ترمذی کو قدیم حواشی و تعلیقات کی بقاء کے ساتھ جدید طرز طباعت پر شائع کیا جائے اور اس کی عبارت دیگر اصول نصوص سے تقابل کر کے صحیح لکھی جائے اور حاشیہ عبارت کے نیچے درج کیا جائے۔ چنانچہ اس طباعت میں ہمارا طریق کار مندرجه ذیل امور پر مشتمل هے ا۔ جامع ترندی کے متن کے سلسلے میں ہم نے علامہ شیخ دکتور بشار عواد معروف کی تحقیق کے ساتھ شائع شدہ نسخے پر اعتماد کرتے ہوئے قدیم ہندی نسخے کا اس کے ساتھ تقابل کیا ہے، کیونکہ ہمارے علم کے مطابق دکتور بشار والا نسخہ جامع ترندی کا صحیح ترین نسخہ ہے اس لئے کہ انہوں نے اس کی تحقیق میں جامع ترمذی کے آٹھ نسخوں سے استفادہ کیا ہے جن میں بعض قلمی اور بعض طبع شدہ ہیں، ان میں ایک نسخہ شیخ احمدمحمد شاکر رحمہ اللہ کی تحقیق والا بھی شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر سے نوازے۔
۲۔ قدیم ہندی نسخے کا دکتور بشار عواد کے نسخے کے ساتھ موازنہ کر کے کلمات کے فرق و اختلاف کو حاشیے میں واضح کر دیا ہے اور چھوٹی ہوئی عبارت لکھ کر نشاندہی کر دی ہے۔
۔ جامع ترمذی کی عبارت پر اعراب لگا دیئے گئے ہیں۔
۴۔ حدیث کے نمبر لگانے میں ہم نے اس ترقیم ( نمبر سازی) پر اعتماد کیا ہے جودکتور بشار عواد کے مطبوع تحقیقی نسخے میں ہے اور انہوں نے اس ترقیم میں دکتر رشیخ احمدمحمد شاکر والے نسخے کی پیروی کی ہے کیونکہ جدید تحقیقی و تالیفی کتب علم میں بکثرت اسی کا حوالہ دیا گیا ہے اور ہمارے اس آخری دور میں اسی کو شہرت ملی ہے، چنانچہ دکتور بشار عواد فرماتے ہیں ”ہم نے ترقیم میں ان کے خلاف نہیں کیا، جو زیادتی نظر آئی اسے حاشیے میں ہو بہو نقل کر دیا اور جہاں سقوط عبارت یا بلا نمبر سندیں ملیں ان پر سابق حدیث کا ہی نمبر لگایا البتہ مکرر ہونے کی علامت دم لگا دی اور زیادہ ہونے کی صورت میں علامت ”م“ کا دوبارہ اضافہ کر دیا۔ ۵۔ ابواب کے نمبرات لگانے میں کتاب ”مفتاح كنوز السنة “اور ”المعجم المفهرس لالفاظ الحدیث“ کی ترتیب کو اختیار کیا ہے تا کہ جو چاہے ان کتابوں کی مراجعت کر کے فائدہ اٹھا سکے۔ ۶ - حضرت مولانا احمد علی سہارنپوری رحمہ اللہ کا حاشیہ جامع ترندی کے متن کے نیچے رکھا گیا اور فرق کرنے کیلئے درمیان میں ایک خط کھینچ دیا گیا جبکہ قدیم نسخوں میں یہ حاشیہ صفحات کے دائیں بائیں تھا، حاشیہ کی عبارت کی تصیح نمبروں کی علامات کی رعایت اور فقرات کی تعین کی گئی ہے۔ ے۔ علامہ کشمیری کی تقریر العرف الشذی حاشیہ سہارنپوری کے نیچے دی ہے اور دونوں میں خط کھینچ کر فرق کیا ہے سابقہ متعدد نسخوں کو سامنے رکھ کر صحیح کا اہتمام کیا ہے۔
صفحہ کے آخر میں اختلاف نسخ کو بیان کرنے اور ان میں سے درست کو اختیار کرنے کے لئے ہم نے اپنی تعلیقات کا اضافہ کیا ہے۔ ۹۔ ابتداء میں بطور مقدمہ امام ترمذی رحمہ اللہ اور ان کی جامع ، علامہ شیخ احمد علی سہارنپوری رحمہ اللہ اور علامہ انورشاہ کشمیری رحمہ اللہ اور ان کی شرح العرف الشذی کے متعلق اہم مباحث کو شامل کیا ہے۔ ۱۰۔ اسی طرح ابتداء میں حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہ اللہ کے اُن افادات کا بھی اضافہ کیا ہے جو انہوں نے دارالعلوم دیو بند میں جامع ترمذی کے درس کے دوران بیان فرمائے ، جنہیں آپ کے ایک شاگرد نے ضبط کیا تھا اور تقریر ترمذی شیخ الہند رحمہ اللہ کے نام سے معروف ہیں۔ ا۔ اس کے ساتھ تکمیل فائدے کیلئے اصطلاحات حدیث میں امام سید شریف جرجانی رحمہ اللہ کے ایک رسالے کا بھی اضافہ کیا ہے جو جامع ترمندی کے قدیم ہندی نسخوں کے ساتھ طبع ہوتا آ رہا ہے۔ اس نفیس مجموعے کو جدید امتیازی طرز طباعت کے نئے اسلوب میں پیش کرتے ہوئے ہم اللہ سبحانہ وتعالی کے شکر گزار ہیں کہ اس نے ہم سے یہ مبارک خدمت لے کر ہم پر احسان فرمایا اللہ تعالیٰ اسے ہماری اور ہر اس شخص کی طرف سے جس نے بھی اس عظیم محنت میں جس قسم کا بھی تعاون